ٹیلیگرام پر مشہور ہونے اور کمانے کے ۵ راز
جیسے ہی صبح کی چائے کا پہلا گھونٹ گلی سے اترتا ہے، میرا ذہن آج کلنڈر پر پڑتا ہے: پچاس سالہ Rozگار، flap کی ترل، اور ٹیلیگرام چینل پر پڑھنے والوں کی وہ تعداد جو ابھی تک “ہزار” کا نمبر پار نہیں کر سکی۔ آپ بھی اگر کالادھر، لاہور، یا اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ایک چپچپے کمرے میں اپنی صحت مند جانداری کی پوسٹ تیار کر رہی ہوں، تو آپ کو پتہ ہے کہ انسٹاگرام کا الگورتھم کبھی dost بنتا ہے کبھی دुशمن۔ فیس بک پر رسائی دن بدن گھٹ رہی ہے، اور ٹک ٹاک کا فوری fama ایک رات میں گم ہو جاتا ہے۔ ...